(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں کہ ہمیں فلیح نے حدیث بیان کی (ح) وہ کہتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں محمد بن فلیح نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: مجھے ہلال بن علی نے حدیث بیان کی از عطاء بن یسار از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا:
ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے آپ صحابہ کے سامنے حدیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی آ کر کہنے لگا: قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مشغول رہے، بعض صحابہ نے کہا: آپ نے اس کی بات سنی اور اس کی بات کو ناپسند فرمایا اور بعض نے کہا: بلکہ آپ نے سنا نہیں، حتیٰ کہ جب آپ نے اپنی حدیث مکمل کر لی تو فرمایا: وہ کہاں ہے؟ راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے آپ نے اس کے متعلق فرمایا جس کو میں نے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہوئے دیکھا تھا اس سائل نے کہا: یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں آپ نے فرمایا: جب امانت کو ضائع کر دیا جائے تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ سائل نے کہا: امانت کیسے ضائع ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جب کوئی منصب نا اہل کے سپرد کر دیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔
Reference: Sahih Al Bukhari 59