امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب از سعید بن یسار انہوں نے بیان کیا کہ
میں رات کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستہ میں جا رہا تھا، پس سعید نے کہا: جب مجھے صبح ہونے کا خوف ہوا تو میں سواری سے اترا، پھر میں نے وتر پڑھے، پھر میں ان سے مل گیا، پس حضرت عبداللہ بن عمر نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: مجھے صبح ہونے کا خوف ہوا تو میں نے سواری سے اتر کر وتر پڑھے، پس حضرت عبداللہ نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اللہ کی قسم! انہوں نے کہا: پس بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ كُنتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَريقِ مَكَّةَ فَقَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ لَحِقْتُهُ فقالَ عبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلتُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقالَ عَبدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْوَةٌ حَسنةٌ فَقُلت بَلَى وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ
Reference: Sahih Al Bukhari 999