(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابو معمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی از حفصہ بنت سیرین انہوں نے کہا:
ہم اپنی لڑکیوں کو عید کے دن باہر نکلنے سے منع کیا کرتے تھے، پھر ایک عورت آئی اور بنی خلف کے محل میں ٹھہری، میں اس سے ملنے گئی، اس نے بیان کیا کہ اس کے بہنوئی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی ہے اور اس کی بہن چھ غزوات میں اس کے ساتھ رہی ہے، اس کی بہن نے کہا: ہم بیماروں کو دوا دیتے تھے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے تھے، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کسی پر کوئی حرج ہے کہ اگر اس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ باہر نہ نکلے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی کو چاہیے کہ وہ اس کو چادر اوڑھائے اور انہیں چاہیے کہ وہ نیکی کے مقامات اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، حفصہ نے کہا: پھر جب حضرت ام عطیہ آئیں تو میں ان کے پاس گئی اور ان سے سوال کیا: کیا آپ نے اس اس طرح کی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! میرے باپ کی قسم! اور وہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ کی قسم! آپ نے فرمایا تھا: جوان عورتیں نکلیں یا فرمایا تھا: جوان اور پردہ دار عورتیں نکلیں، اس میں راوی ایوب کو شک ہے، اور حیض والی عورتیں نکلیں اور نماز کی جگہ سے الگ رہیں، اور وہ نیکی کے مقامات اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، وہ کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا: کیا حیض والی عورتیں بھی باہر نکلیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! کیا حیض والی عورت میدانِ عرفات میں حاضر نہیں ہوتی اور فلاں! فلاں! جگہ حاضر نہیں ہوتی (یعنی منیٰ اور مزدلفہ میں نہیں جاتی)؟
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ جَوَارِيَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ يَوْمَ الْعِيدِ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَأَتَيْتُهَا فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً فَكَانَتْ أُخْتُهَا مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ فَقَالَتْ فَكُنَّا نَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى وَنُدَاوِي الْكَلْمَى فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا فَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ حَفْصَةُ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ أَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا أَسَمِعْتِ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ نَعَمْ بِأَبِي وَقَلَّمَا ذَكَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ بِأَبِي قَالَ لِيَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ شَكَّ أَيُّوبُ وَالْحُيَّضُ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا الْحُيَّضُ قَالَتْ نَعَمْ أَلَيْسَ الْحَائِضُ تَشْهَدُ عَرَفَاتٍ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا
Reference: Sahih Al Bukhari 980