(امام بخاری روایت کرتے ہیں): 'ہمیں ابو نعیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن طلحہ نے حدیث بیان کی از زبید از شعبی از حضرت البراء رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن بقیع کی طرف گئے، پس آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے چہرے کو ہماری طرف متوجہ کیا اور فرمایا: ہمارے اس دن میں ہماری پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتداء کرتے ہیں، پھر ہم لوٹ جاتے ہیں، پس ہم نحر (قربانی) کرتے ہیں، سو جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کی موافقت کی اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو یہ صرف وہ چیز ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کر لیا اور یہ قربانی میں سے کوئی چیز نہیں ہے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میں ذبح کر چکا ہوں اور میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکرا ہے، جو ایک سال کے بکرے سے زیادہ فربہ ہے، آپ نے فرمایا: اس کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد وہ کسی اور سے کفایت نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
Reference: Sahih Al Bukhari 976