(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، از زبید از الشعبی از حضرت البراء رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے فرمایا: ہم اپنے اس دن میں جس کام سے ابتداء کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، پھر ہم لوٹ کر جاتے ہیں اور نحر (قربانی) کرتے ہیں، پس جس نے یہ کام کیے اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ صرف گوشت ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے، اس میں عبادت کی کوئی چیز نہیں ہے، پھر میرے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کر دیا اور میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے اور وہ ایک سال کے بکرے سے زیادہ فربہ ہے، آپ نے فرمایا: اس کو اس کی جگہ ذبح کر دو یا فرمایا: اس کو ذبح کر دو اور تمہارے بعد چھ ماہ کا بکری کا بچہ (قربانی میں) کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
Reference: Sahih Al Bukhari 968