اور از حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز سے ابتداء کی، پھر اس کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ منبر سے اترے، پھر خواتین کے پاس گئے، پس ان کو نصیحت کی اور اس وقت آپ نے حضرت بلال کے ہاتھ پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا تھا، اور خواتین اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا اب بھی امام پر واجب ہے کہ وہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد خواتین کے پاس جائے اور ان کو نصیحت کرے؟ عطاء نے کہا: بے شک یہ ان پر واجب ہے، اور ان کو کیا ہوا جو وہ ایسا نہیں کرتے۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمّ خَطَبَ النَّاسَ بَعْدُ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ، فَأتى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكّأ عَلى يَدِ بِلاَلٍ، وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً
Reference: Sahih Al Bukhari 961