(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں سعید بن ابی مریم نےحدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: مجھے زید نے خبر دی از عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح از حضرت ابوسعید الخدری‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عیدگاہ کی طرف نکل کر جاتے تھے‘ سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے‘ پھر مڑ کر نمازیوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور نمازی اپنی صفوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے تھے آپ ان کو وعظ اور نصیحت کرتے اور ان کو حکم دیتے‘ پس اگر آپ کوئی لشکر بھیجنا چاہتے تو اس کو تیار کرتے یا کسی اور چیز کا حکم دینا چاہتے تو اس کا حکم دیتے‘ پھر آپ گھر لوٹ جاتے۔ حضرت ابوسعید نے کہا: پھر لوگوں کا ہمیشہ یہی معمول رہا حتیٰ کہ میں مروان کے ساتھ نکلا اور وہ اس وقت مدینہ کا امیر تھا اور یہ عید الاضحیٰ یا عید الفطر کا دن تھا‘ جب ہم عیدگاہ میں آئے تو کثیر بن الصلت نے منبر بنا کر رکھ دیا‘ پھر مروان نماز پڑھانے سے پہلے منبر کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا‘ میں نے اس کے کپڑے کو پکڑ کر کھینچا‘ اس نے مجھے کھینچا حتیٰ کہ وہ منبر پر چڑھ گیا‘ پس اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے (عید کا) طریقہ بدل دیا ہے‘ اس نے کہا: اے ابوسعید! وہ طریقہ جاتا رہا جو تم جانتے ہو‘ پس میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس کو میں جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کو میں نہیں جانتا‘ تب ان نے کہا: بات یہ ہے کہ نماز کے بعد لوگ ہمارے لیے بیٹھتے نہیں ہیں‘ اس لیے میں نے خطبہ کو نماز پر مقدم کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبرني زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ والأَضحَى إِلَى المُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ، وَيُوصِيهِمْ، وَيَأْمُرُهُمْ، فإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصرِف، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهُوَ أَميرُ المَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا المُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجبذْتُ بثَوْبِهِ، فَجَبَذَنِي، فَارْتَفَعَ، فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ لَهُ غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ، فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ، فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ
Reference: Sahih Al Bukhari 956