(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عثمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از منصور از شعبی از حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیا‘ پس فرمایا: جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی اس نے صحیح عبادت کر لی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی‘ وہ نماز سے پہلے ذبح کرنا ہے اور اس کی عبادت (صحیح) نہیں ہے‘ پھر حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کہا: جو حضرت البراء کے ماموں ہیں‘ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کو نماز سے پہلے ذبح کر لیا اور مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے اور میں یہ پسند کرتا تھا کہ میرے گھر میں میری بکری سب سے پہلے ذبح کی جائے‘ سو میں نے اپنی بکری کو ذبح کر لیا اور نماز سے پہلے اس سے ناشتہ کر لیا‘ آپ نے فرمایا: تمہاری بکری‘ بکری کا گوشت ہے (یعنی قربانی نہیں ہے)‘ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ ہے‘ جو چھ ماہ کا ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا وہ میری طرف سے (قربانی میں) کفایت کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اور تمہارے بعد اور کسی کی طرف سے کفایت نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ
خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَقَالَ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَلاَ نُسُكَ لَهُ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ البَرَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ اليَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاَةَ، قَالَ شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتَجْزِي عَنِّي؟ قَالَ نَعَمْ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
Reference: Sahih Al Bukhari 955