اور عید کے دن حبشی ڈھالوں اور برچھیوں سے جنگی مشقیں کرتے تھے، پس یا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کیا تم دیکھنا چاہتی ہو، میں نے عرض کیا: جی ہاں! پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے: اے بنی ارفدہ! کھیلتے رہو حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی تو آپ نے پوچھا: یہ تمہیں کافی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: پھر جاؤ۔
(تابع للسند السابق): حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسَدِيَّ، حدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ
وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ، يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيّ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟ فَقُلْتُ نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ حَسْبُكِ؟ قُلْتُ نَعَمْ، قَالَ فَاذْهَبِي
Reference: Sahih Al Bukhari 950