(امام بخاری روایت کرتے ہیں) ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی از عبدالعزیز بن صھیب وثابت البنانی از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھی پھر آپ سوار ہوئے اور آپ نے نعرہ لگایا: اللہ اکبر خیبر کی خرابی آگئی، ہم جب کسی قوم کے صحن میں پہنچتے ہیں تو جن لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ان کی صبح کو بری حالت ہوتی ہے پھر خیبر کے لوگ گلیوں میں دوڑتے ہوئے نکلے وہ کہہ رہے تھے: (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ”خمیس“ اور ”خمیس“ کا معنی لشکر ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے آپ نے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور (عورتوں اور) بچوں کو قید کرلیا حضرت دحیہ کلبی نے حضرت صفیہ کو لے لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت صفیہ کو لے لیا پھر ان سے نکاح کرلیا اور انہیں آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دے دیا پس عبدالعزیز نے ثابت سے کہا: اے محمد! کیا آپ نے حضرت انس سے سوال کیا تھا کہ ان کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ان کا مہر خود ان کا نفس تھا پھر وہ مسکرائے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّاد بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ البُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ رَكِبَ فقالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ المُنْذَرِينَ الصافات ١٧٧ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالخَمِيسُ قَالَ وَالخَمِيسُ الجَيْشُ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ المُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الكَلْبِيِّ، وَصارَت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عتْقَهَا فَقَالَ عَبْدُ العَزِيزِ، لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالكٍ مَا أَمْهَرَهَا؟ قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا، فَتَبَسَّمَ
Reference: Sahih Al Bukhari 947