(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جویریہ نے حدیث بیان کی از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، انہوں نے بیان کیا کہ
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ الاحزاب سے لوٹے تو آپ نے ہم سے فرمایا: کوئی شخص بنو قریظہ میں پہنچے بغیر عصر کی نماز نہ پڑھے، پس بعض صحابہ نے راستہ میں عصر کا وقت پایا، لہذا بعض نے کہا: ہم عصر کی نماز اس وقت تک نہیں پڑھیں گے حتیٰ کہ ہم بنو قریظہ میں پہنچ جائیں اور بعض نے کہا: بلکہ ہم عصر کی نماز پڑھیں گے، آپ نے ہم سے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان میں سے کسی فریق کو ملامت نہیں کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأَحْزَابِ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ العَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَكَ بَعْضَهُم العَصْرُ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُم بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ
Reference: Sahih Al Bukhari 946