(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری‘ انہوں نے کہا: میں نے شعیب سے سوال کیا: کیا نبی ﷺ نے نماز خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے سالم نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کے غزوہ میں گیا‘ پس ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا‘ پھر ہم نے ان کے لیے صفیں بنائیں‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں نماز پڑھائی‘ پس ایک جماعت نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی‘ اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی‘ جو جماعت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھی اس کے ساتھ آپ نے رکوع کیا اور دو سجدے کیے‘ پھر وہ لوگ اس جماعت کی جگہ چلے گئے جو دشمن کے سامنے تھی اور اس نے نماز نہیں پڑھی تھی‘ پھر وہ لوگ آگئے‘ پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ رکوع کیا اور دو سجدے کیے‘ پھر آپ نے سلام پھیر دیا‘ پھر ان میں سے ہر جماعت کھڑی ہوئی، اور ان نے اپنا اپنا رکوع کیا اور دو سجدے کیے۔
٢ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَعْنِي صَلاَةَ الخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ
غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجد، فَوَازَيْنَا العَدُوَّ، فَصَافَفْنَا لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى العَدُوِّ، ورَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُم انْصَرفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ، فَجَاءُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجَدَ سجدَتَين، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ منْهُمْ، فَرَكعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سجدَتَيْنِ
Reference: Sahih Al Bukhari 942