امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو گئے، پس کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا:
تمہارا باپ حذافہ ہے، پھر آپ نے بہت مرتبہ فرمایا: مجھ سے سوال کرو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئے، پھر کہا: ہم اللہ کو رب مان کر راضی ہیں اور اسلام کو دین مان کر راضی ہیں اور (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہیں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ خَرَجَ فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ. ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: سَلُونِي. فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيًّا، فَسَكَتَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 93