Sahih Al Bukhari 927

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن ابان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن الغسیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عکرمہ نے حدیث بیان کی از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، انہوں نے کہا:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور یہ آخری مجلس تھی جس میں آپ بیٹھے، اس وقت آپ نے ایک بڑی چادر اپنے کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی اور اپنے سر پر عمامہ باندھا ہوا تھا جو تیل سے چکنا ہو چکا تھا، آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی ثناء کی پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! میرے قریب آ جاؤ، سو لوگ آپ کی طرف آ گئے، پھر آپ نے فرمایا: اما بعد (حمد و ثناء کے بعد) انصار کا یہ قبیلہ کم ہوتا جائے گا اور (دوسرے) لوگ زیادہ ہوتے جائیں گے، پس (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شخص کسی منصب کا والی ہو اور وہ کسی کو ضرر پہنچانے یا کسی کو نفع دینے کا اختیار رکھتا ہو تو وہ انصار میں سے نیکوں کی نیکی کو قبول کرے اور ان میں سے خطا کاروں کی خطاء سے درگزر کرے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الغَسِيلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ

صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المِنْبَرَ، وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ، قد عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ، فَثَابُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ هَذَا الحَيَّ مِنَ الأَنْصَارِ، يَقِلُّونَ وَيَكْثُرُ النَّاسُ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيه أَحدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيِّهم

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 927