Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 922

امام بخاری روایت کرتے ہیں: محمود نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی از حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ

میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی‘ اس وقت لوگ نماز پڑھ رہے تھے‘ میں نے پوچھا: لوگ کیوں نماز پڑھ رہے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی سورج کو گہن لگ گیا ہے) ’میں نے پوچھا: کیا یہ کوئی علامت ہے؟ حضرت عائشہ نے اپنے سر سے اشارہ کیا‘ یعنی ہاں۔ حضرت اسماء نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبی نماز پڑھی‘ حتیٰ کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی اور میرے پہلو میں پانی کی ایک مشک تھی جس میں پانی تھا‘ میں نے اس کو کھولا اور اس میں سے پانی نکال کر اپنے سر پر ڈالنے لگی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے مڑے اور اس وقت سورج کا گہن دور ہو گیا تھا‘ پھر آپ نے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد کی جس کے وہ لائق ہے‘ پھر آپ نے فرمایا: اما بعد (بعد حمد وثناء کے) ’اور انصار کی عورتوں کا شور تھا‘ میں ان کی طرف مڑی تاکہ میں ان کو چپ کراؤں‘ پس میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: آپ نے فرمایا ہے کہ جو چیز بھی پہلے مجھے نہیں دکھائی گئی تھی اس چیز کو میں نے اس مقام میں دیکھ لیا ہے حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا ہے‘ اور بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ بے شک تم قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیے جاؤ گے جو مسیح دجال کے فتنہ کی مثل یا اس کے قریب ہوگی‘ تم میں سے ہر ایک کے پاس کسی کو لایا جائے گا‘ پھر کہا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ پس جو مومن ہوگا یا یقین کرنے والا ہوگا‘ (ہشام کو شک ہے‘ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا) وہ کہے گا: یہ رسول اللہ ہیں‘ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ یہ ہمارے پاس معجزات اور ہدایت کے ساتھ آئے تھے‘ سو ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی تصدیق کی‘ پس اس سے کہا جائے گا: تم اپنے اعمال کے نفع کے ساتھ سو جاؤ‘ بے شک ہم جانتے تھے کہ تم ان پر ایمان لانے والے ہو‘ اور رہا منافق یا کہا: شک کرنے والا (اس میں ہشام کو شک ہے) ’اس سے کہا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں جانتا‘ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تو میں نے کہہ دیا۔

ہشام نے کہا: مجھ سے فاطمہ نے یہ حدیث بیان کی‘ پس میں نے اس حدیث کو محفوظ رکھا‘ سوا اس کے جس میں شدت کی گئی۔

وَقَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ المُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ

قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، قُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، قَالَتْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الغَشْيُ، وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَفَتَحْتُهَا، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ مِنْهَا عَلَى رَأْسِي، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ. قَالَتْ: وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لِأُسْكِتَهُنَّ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ؟ قَالَتْ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي القُبُورِ، مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا المُؤْمِنُ، أَوْ قَالَ المُوقِنُ - شَكَّ هِشَامٌ - فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، هُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالهُدَى، فَآمَنَّا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا وَصَدَّقْنَا، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا، قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، وَأَمَّا المُنَافِقُ، أَوْ قَالَ المُرْتَابُ - شَكَّ هِشَامٌ - فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ. قَالَ هِشَامٌ: فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ فَأَوْعَيْتُهُ، غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلَّظُ عَلَيْهِ.

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 922