(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوعامر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال المدینی نے حدیث بیان کی از ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن از یزید المنبعث کے آزاد شدہ غلام از زید بن خالد الجہنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے لقطہ (راستہ میں گری ہوئی چیز) کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا
اس کے سربند (جس ڈوری سے تھیلی کو باندھا گیا ہو) کی پہچان رکھو یا فرمایا: اس تھیلی (بٹوے) اور اس کو بند کرنے کی چیز کی پہچان رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر تم خود اس سے نفع حاصل کرو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو وہ چیز ادا کر دو، اس شخص نے پوچھا: گم شدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ سو آپ غضب ناک ہوئے، حتیٰ کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے یا راوی نے کہا: آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، آپ نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ اس (کے پانی کا) مشکیزہ ہے اور اس کا جوتا ہے، وہ پانی (کے چشمہ) پر جا کر پانی پی لے گا اور درختوں کو چرتا رہے گا، اس کو چھوڑ دو، حتیٰ کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ اس سائل نے پوچھا کہ گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: اعْرِفْ وِكَاءَهَا، أَوْ قَالَ وِعَاءَهَا، وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ. قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوْ قَالَ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: وَمَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَرْعَى الشَّجَرَ، فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا. قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 91