امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد اللہ بن عبد القاری القرشی الاسکندرانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو حازم بن دینار نے حدیث بیان کی کہ
بعض لوگ حضرت سہل بن سعد الساعدی کے پاس آئے اور وہ اس میں بحث کر رہے تھے کہ منبر کون سی لکڑی کا تھا؟ انہوں نے حضرت سہل سے اس کے متعلق سوال کیا، حضرت سہل نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور پہچانتا ہوں وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا اور بے شک میں نے اس کو دیکھا جب پہلے دن اس کو رکھا گیا اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے پاس کسی کو بھیجا، سہل نے اس عورت کا نام لیا تھا (آپ نے اس سے فرمایا اپنے بیٹے کو حکم دو جو بڑھئی ہے کہ وہ میرے لیے سیڑھیوں پر مشتمل منبر بنا دے جس پر میں اس وقت بیٹھوں جب میں لوگوں سے کلام کروں اس عورت نے اپنے بیٹے کو حکم دیا، پس اس نے طرفاء الغابہ (ساگوان) کی لکڑی سے وہ منبر بنا دیا، پس اس عورت نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ نے حکم دیا تو اس کو اس جگہ رکھ دیا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منبر پر نماز پڑھائی، آپ نے تکبیر پڑھی اور آپ اس منبر پر تھے پھر آپ نے اس منبر پر رکوع کیا، پھر آپ منبر سے اتر کر پچھلے پیروں پر لوٹے، پھر آپ نے منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر آپ نے اسی طرح (دوسری رکعت پڑھائی) پھر جب آپ نماز پڑھا کر فارغ ہو گئے تو آپ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ نماز اس لیے پڑھائی ہے تا کہ تم میری اقتداء کرو اور تم میرے نماز کے طریقہ کو جان لو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيُّ القُرَشِيُّ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدْ امْتَرَوْا فِي المِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ
وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضع، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّه صلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلاَنةَ امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ، أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طرْفَاءِ الغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيها، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ القَهقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ المِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلتَعَلَّمُوا صَلاَتِي
Reference: Sahih Al Bukhari 917