امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن کثیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از ابن ابی خالد از قیس بن ابی حازم از حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! میں فلاں شخص کی لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سے (جماعت سے) نماز کو نہیں پا سکتا، پس میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی غضب ناک ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم (نمازیوں کو) متنفر کرتے ہو! پس جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے وہ تخفیف کے ساتھ پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں بیمار، کمزور اور کسی ضروری کام پر جانے والے بھی ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ
قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلَانٌ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمِئِذٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مُنَفِّرُونَ، فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 90