امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں بشر بن محمد المروزی نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے خبر دی از الزہری‘ انہوں نے کہا: ہمیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے۔
اور لیث نے یہ اضافہ کیا کہ یونس نے کہا: رزیق بن حکیم نے ابن شہاب کی طرف لکھا اور اس دن میں ان کے ساتھ وادی القریٰ میں تھا‘ آپ کی کیا رائے ہے میں جمعہ قائم کروں؟ اور رزیق اس زمین پر عامل تھے اور اس میں عمل کرتے تھے اور اس میں حبشیوں اور دوسرے لوگوں کی جماعت تھی اور رزیق ان دنوں ایلہ پر حاکم تھے‘ پس ابن شہاب نے جواب لکھا اور میں سن رہا تھا‘ انہوں نے ان کو جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا اور ان کو یہ خبر دی کہ سالم نے ان کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے‘ سربراہ ملک نگہبان ہے اور وہ اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے‘ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف سے جواب دہ ہے‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور وہ اپنے ماتحت لوگوں کی طرف سے جواب دہ ہے‘ اور نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور وہ اپنے زیر تصرف چیزوں کی طرف سے جواب دہ ہے اور میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا: اور مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اپنے زیر تصرف چیزوں کی طرف سے جواب دہ ہے اور تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کے ماتحت لوگوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ المَرْوَزِيّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَزَادَ اللَّيْثُ، قَالَ يُونُسُ كَتَبَ رُزَيْقُ بْنُ حُكَيْمٍ إِلَى ابْنِ شِهَابٍ، وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِوَادِي القُرَى هَلْ تَرَى أَنْ أُجَمِّعَ وَرُزَيْقٌ عَامِلٌ عَلَى أَرْضٍ يَعْملها، وَفِيهَا جَمَاعَةٌ مِنَ السُّودَانِ وَغَيْرِهِمْ؟ وَرُزَيْقٌ يَوْمَئِذٍ عَلَى أَيْلَةَ فَكَتَبَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ يَأْمُرُهُ أَنْ يُجَمِّعَ، يُخْبِرُهُ أَنَّ سَالِمًا حَدّثه أَنّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُول عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاع وَمَسْئُول عنْ رَعِيَّتِهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 893