امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از فاطمہ از اسماء انہوں نے کہا:
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا، پس اس وقت سب لوگ نماز کے قیام میں تھے، حضرت عائشہ نے کہا: سبحان اللہ! میں نے پوچھا: یہ کوئی نشانی ہے؟ حضرت عائشہ نے سر کے اشارہ سے جواب دیا: ہاں! پھر میں بھی کھڑی ہو گئی، حتیٰ کہ مجھ پر بے ہوشی چھانے لگی تو میں اپنے سر کے اوپر پانی ڈالنے لگی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کی حمد اور ثناء کی، پھر فرمایا: جس چیز کو بھی میں نے (پہلے) نہیں دیکھا تھا اس چیز کو میں نے اس جگہ میں دیکھ لیا ہے، حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی، پس میری طرف یہ وحی کی گئی ہے: بے شک تمہاری قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی، جو مسیح الدجال کی آزمائش کی مثل ہوگی یا اس کے قریب ہوگی، (راوی کہتا ہے:) مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا، کہا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے؟ رہا ایمان لانے والا یا یقین کرنے والا (راوی کہتا ہے:) مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا، تو وہ کہے گا: یہ محمد رسول اللہ ہیں، ہمارے پاس معجزات اور دلائل لے کر آئے تھے، سو ہم نے ان کے پیغام پر لبیک کہا اور ان کی پیروی کی، اور تین دفعہ کہا: یہ محمد ہیں، پھر اس سے کہا جائے گا: تم (اپنے اعمال سے) نفع اٹھاتے ہوئے سو جاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم بے شک ان پر یقین کرنے والے ہو اور رہا منافق یا شک زدہ (راوی کہتا ہے:) مجھے معلوم نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا، سو وہ کہے گا: مجھے نہیں معلوم! میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنا، سو وہ میں نے کہہ دیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ
أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ، قُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا: أَيْ نَعَمْ. فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ ﷿ النَّبِيُّ ﷺ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي، حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ مِثْلَ أَوْ قَرِيبً لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُقَالُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، هُوَ مُحَمَّدٌ، ثَلَاثًا، فَيُقَالُ: نَمْ صَالِحًا، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ. وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 86