(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری، انہوں نے کہا: ہمیں عروہ بن الزبیر نے خبر دی از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں، پھر کسی کہنے والے نے آپ سے عرض کیا: آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ طلب کرتے ہیں؛ آپ نے فرمایا: جب کوئی شخص مقروض ہوتا ہے تو وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔
محمد بن یوسف نے کہا: میں نے خلف بن عامر سے سنا وہ کہتے تھے کہ "المَسیح" اور "المَسِّیح" مشدد میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں کا ایک معنی ہے، ان میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور دوسرا دجال ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ". فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ". وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَعِيذُ فِي صَلاَتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
Reference: Sahih Al Bukhari 832