(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابو الیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن ہرمز نے حدیث بیان کی جو بنو عبدالمطلب کے آزاد شدہ غلام ہیں اور مرہ نے کہا جو بنو ربیعہ بن الحارث کے آزاد شدہ غلام ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ جو ازد شنوءۃ سے ہیں اور وہ بنو عبد مناف کے حلیف ہیں اور وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے کہ
نبی ﷺ نے نمازیوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ پہلی دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہو ئے اور نہیں بیٹھے، پس نمازی بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ جب آپ نے نماز پوری کر لی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے تو آپ نے اللہ اکبر کہا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے دو سہو کے سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ـ وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ ـ وَهْوَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَهْوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهْوَ جَالِسٌ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 829