ابو بکر بن عبد الرحمن اور ابو سلمہ دونوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: "سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد" کچھ لوگوں کا نام لے کر ان کے حق میں دعاء خیر کرتے‘ سو آپ کہتے: اے اللہ! الولید بن الولید کو نجات دے اور سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ربیعہ کو اور کمزور مومنوں کو‘ اے اللہ! مضر کو شدت سے روند ڈال اور ان پر ایسے سال مسلط کر دے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط کے سال تھے اور ان دنوں میں مضر اہل مشرق تھے‘ جو آپ کے مخالف تھے۔
قَالاَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. يَدْعُو لِرِجَالٍ فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَيَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ". وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُونَ لَهُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 804