Sahih Al Bukhari 7

(امام بخاری نے کہا کہ) ہمیں ابوالیمان الحکم بن نافع نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی از زہری‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ

ھرقل نے ان کو قریش کی جماعت کے ساتھ بلایا‘ یہ لوگ اس مدت میں شام تجارت کرنے گئے تھے‘ جس مدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان اور قریش سے عارضی صلح کی ہوئی تھی‘ پس قریش اس کے پاس آئے‘ اور وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں تھے‘ ھرقل نے ان کو اپنی مجلس میں بلایا اور اس کے گرد روم کے سردار تھے‘ پھر اس نے قریش کو اور اپنے مترجم کو بلایا‘ پھر کہا: تم میں سے اس شخص کا قریبی رشتہ دار کون ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا: میں اس شخص کا قریبی رشتہ دار ہوں‘ ھرقل نے کہا: اس کو میرے نزدیک کر دو‘ اور اس کے اصحاب کو بھی اس کے نزدیک کر دو اور ان کو اس کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا کر دو‘ پھر اس نے اپنے مترجم سے کہا: ان لوگوں سے کہو کہ میں اس شخص کے متعلق سوال کروں گا‘ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کو جھٹلا دینا‘ ابوسفیان نے کہا: پس اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات پر شرم نہ آتی کہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور آپ کے متعلق جھوٹ بولتا‘ پھر ھرقل نے مجھ سے سب سے پہلا سوال جو کیا‘ وہ یہ تھا: تم لوگوں میں اس شخص کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں بہت عمدہ نسب والے ہیں‘ اس نے کہا: کیا یہ دعویٰ اس سے پہلے تم میں سے کسی اور نے بھی کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں‘ اس نے کہا: کیا اس کے باپ دادا میں سے کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں‘ اس نے کہا: آیا مقتدر لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں یا پس ماندہ لوگ؟ میں نے کہا: بلکہ پس ماندہ لوگ‘ اس نے کہا: آیا وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ زیادہ ہو رہے ہیں‘ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین سے ناراض ہو کر اس سے پلٹ جاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں‘ اس نے کہا: کیا اس کے دعویٰ نبوت کرنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں‘ اس نے کہا: کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں‘ تاہم ہمارا ان سے ایک مدت تک معاہدہ ہے‘ ہم نہیں جانتے کہ وہ اس دوران کیا کرنے والے ہیں‘ ابوسفیان نے کہا: اس بات کے سوا مجھے آپ کے خلاف کوئی اور بات کہنے کی گنجائش نہیں ملی‘ اس نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ جنگ کی؟ میں نے کہا: ہاں‘ اس نے کہا: تمہاری اس کے ساتھ جنگ کیسی رہی؟ میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ کنویں کے ڈول کی طرح تھی‘ کبھی اس ڈول کو وہ حاصل کر لیتا اور کبھی ہم‘ اس نے کہا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے: صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور تمہارے باپ دادا جو کہتے تھے‘ اس کو چھوڑ دو اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا‘ سچ بولنے کا‘ پاک دامن رہنے کا اور رشتہ داروں سے ملنے جلنے کا حکم دیتا ہے‘ پھر ھرقل نے مترجم سے کہا: ان کو بتاؤ کہ میں نے تم سے اس کے نسب کے متعلق سوال کیا تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں عمدہ نسب والا ہے‘ اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے عمدہ نسب میں بھیجے جاتے ہیں‘ اور میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا تم میں سے کسی نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا؟ تو تم نے کہا: نہیں‘ میں نے دل میں کہا: اگر تم میں سے کسی نے پہلے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہتا: یہ شخص اس دعویٰ کی پیروی کر رہا ہے‘ جو اس سے پہلے کیا گیا تھا‘ اور میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا اس شخص کے باپ دادا میں سے کوئی شخص بادشاہ تھا؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں‘ میں نے دل میں کہا: اگر اس کے باپ دادا میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنے باپ کے ملک کو طلب کر رہا ہے اور میں نے تم سے سوال کیا کہ آیا تم اس کے دعویِٰ نبوت سے پہلے اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تم نے بتایا کہ نہیں‘ پس میں نے پہچان لیا کہ جو شخص لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھے گا اور میں نے تم سے سوال کیا کہ مقتدر لوگ اُس کی پیروی کرتے ہیں یا پس ماندہ لوگ؟ تو تم نے بتایا کہ پس ماندہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور وہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں اور میں نے تم سے سوال کیا کہ وہ لوگ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے بتایا کہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں‘ اور اسی طرح ایمان کا معاملہ ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ مکمل ہو جائے اور میں نے تم سے سوال کیا کہ ان میں سے کوئی شخص دین میں داخل ہونے کے بعد دین کو ناپسند کر کے اس سے پلٹتا تو نہیں؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں اور جب ایمان کی بشاشت دلوں میں رچ جائے تو پھر اسی طرح ہوتا ہے اور میں نے تم سے سوال کیا کہ کبھی اس نے عہد شکنی کی؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں اور اسی طرح رسول عہد شکنی نہیں کرتے‘ اور میں نے تم سے سوال کیا کہ وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور وہ تمہیں بتوں کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں اور وہ تم کو نماز پڑھنے‘ سچ بولنے‘ پاک دامن رہنے کا حکم دیتے ہیں‘ اگر تم نے جو کچھ کہا ہے وہ برحق ہے تو وہ عنقریب میرے ان قدموں کی جگہ کے مالک ہو جائیں گے اور میں یہ جانتا تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے‘ لیکن مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے‘ سو اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور ان سے ملاقات کرنے کی مشقت اٹھاؤں گا‘ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ضرور ان کے پیر کو دھوتا‘ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کے اس مکتوب کو منگوایا‘ جس کو آپ نے حضرت دحیہ کے ذریعہ بصریٰ کے حاکم کے پاس بھیجا تھا‘ اس نے وہ مکتوب ھرقل کو دے دیا‘ ھرقل نے پڑھا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا: اللہ ہی کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے‘ ھرقل عظیم الروم کی طرف‘ جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو‘ بہرحال بسم اللہ کے بعد پس بے شک میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں‘ اسلام قبول کر لو‘ تم سلامت رہو گے‘ اللہ تعالیٰ تم کو دگنا اجر عطا فرمائے گا‘ اور اگر تم نے اعراض کیا تو تمہارے متبعین کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔ اے اہلِ کتاب! ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں‘ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ قرار دیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ قرار دے‘ پھر اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہہ دو: لوگو! تم گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں O (آل عمران: ۶۴) ابوسفیان نے کہا: جب ھرقل نے جو کہا وہ کہا اور وہ اس مکتوب کو پڑھنے سے فارغ ہو گیا تو اس کے پاس بہت شور ہو گیا اور آوازیں بلند ہوگئیں اور ہم کو نکال دیا گیا‘ جب ہم کو نکال دیا گیا تو میں نے اپنے اصحاب سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کا (یعنی نبی ﷺ) کا معاملہ بہت عظیم ہو گیا‘ اس سے سفید فام قوم کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے‘ پھر مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ وہ عنقریب غالب ہو جائیں گے حتیٰ کہ اللہ نے میرے دل میں اسلام داخل کر دیا اور ابن الناطور جو بیت المقدس کا امیر (گورنر) تھا‘ ھرقل کا مصاحب اور شام کے عیسائیوں کا سردار (بڑا پادری) تھا‘ وہ بیان کرتا ہے کہ ایک دن صبح کو ھرقل بیت المقدس میں بہت پریشان حال اٹھا‘ اس کے درباریوں نے کہا: آج آپ کی حالت بہت بدلی ہوئی ہے‘ ابن الناطور نے کہا: ھرقل نجومی تھا اور ستاروں میں غور و فکر کرتا تھا‘ اس نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں کہا: آج رات جب میں نے ستاروں میں غور کیا تو میں نے دیکھا کہ ختنہ کرنے والی قوم کا بادشاہ غالب آ چکا ہے‘ پس اس زمانہ کے لوگوں میں سے کون ختنہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: صرف یہود ختنہ کرتے ہیں‘ سو آپ ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور آپ اپنے ملک کے تمام شہروں کو یہ حکم لکھ کر بھیج دیں کہ وہاں جو بھی یہود ہیں‘ ان کو قتل کر دیا جائے‘ پس وہ لوگ ان ہی معاملات میں مشغول تھے کہ ھرقل کے پاس ایک شخص کو لایا گیا‘ جس کو غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی خبر دی‘ جب ھرقل نے اس سے پوری خبر معلوم کر لی تو کہا: جاؤ معلوم کرو وہ ختنہ کے قائل ہیں یا نہیں؟ اس نے آپ کے حالات معلوم کیے تو لوگوں نے بتایا کہ وہ ختنہ کے قائل ہیں‘ اور ھرقل نے اس شخص سے عربوں کے متعلق سوال کیا تو اس نے کہا: عرب ختنہ کرتے ہیں‘ پھر ھرقل نے کہا: یہی اس امت کے بادشاہ ہیں جو ظاہر ہو چکے ہیں‘ ھرقل کا ایک گورنر رومیہ میں تھا‘ جو علم میں اس کی ٹکر کا تھا‘ ھرقل نے اس کو خط لکھ کر معلوم کیا اور خود ھرقل حمص کے لیے روانہ ہوا‘ ابھی وہ حمص نہیں پہنچا تھا کہ اس کے پاس اس کے دوست کا خط آ گیا‘ اس کی رائے بھی ھرقل کے موافق تھی کہ نبی ﷺ کا ظہور ہو چکا ہے اور آپ برحق نبی ہیں‘ تب ھرقل نے روم کے سرداروں کو اپنے حمص کے محل میں بلایا اور دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا‘ سو دروازے بند کر دیے گئے‘ پھر وہ ان کے سامنے آیا‘ پھر کہا: اے روم کی جماعت! دائمی کامیابی اور ہدایت کے حصول کے متعلق اور اپنے ملک کی بقا کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ سو تم اس نبی کی بیعت کر لو‘ یہ سنتے ہی وہ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے‘ لیکن دروازے تو بند کیے جا چکے تھے‘ بالآخر جب ھرقل نے ان کی اس وحشت کو دیکھا اور ان کے ایمان سے مایوس ہو گیا تو کہا: ان کو میرے پاس واپس لاؤ اور کہا: میں نے جو ابھی تجویز پیش کی تھی تو اس سے میں تمہارے دین میں شدت کو آزما رہا تھا‘ سو مجھے معلوم ہو گیا‘ پھر ان سب سرداروں نے ھرقل کو سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے‘ اور یہی ھرقل کا آخری امر تھا۔

امام بخاری کہتے ہیں: اس حدیث کو صالح بن کیسان اور یونس اور معمر نے زہری سے روایت کیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ

أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّأْمِ، فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ، فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ، وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا، فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي، وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ. فَوَاللهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَلیهِ. ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ لَا. قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا. وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا. قَالَ: وَلَمْ یُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ، يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ، قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ، فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا. وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ، فَذَكَرْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ، لَقُلْتُ رَجُلٌ يَتَأَسّٰی بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ، فَذَكَرْتَ أَنْ لَا، قُلْتُ: فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ، قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ، فَذَكَرْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ. وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ، فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ، فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ، فَذَكَرْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ، فَذَكَرْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ. وَسَأَلْتُكَ بِمَا يَأْمُرُكُمْ، فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ، لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمیهِ. ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةً إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ، فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ ﴿ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴾[آل عمران: ٦٤]، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ، وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ. فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ. وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ - صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ - سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّأْمِ، يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَاءَ، أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ، فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ: قَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ، قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ: وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ، فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالُوا: لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ، فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ، وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ، فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنَ الْيَهُودِ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ، أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ: اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِ، فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ. ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ، وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ، وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ، فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ﷺ، وَأَنَّهُ نَبِيٌّ، فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ، ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ، ثُمَّ اطَّلَعَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ، وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ، فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ؟ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ، فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ، فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ، وَأَيِسَ مِنَ الْإِيمَانِ، قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ، فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ.

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 7