(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ابی عون‘ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘ انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اہل کوفہ نے آپ کی ہر چیز میں شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز میں بھی! حضرت سعد نے کہا: میں پہلی دو رکعتوں میں زیادہ قرآن پڑھتا ہوں‘ اور آخری دو رکعتوں میں قرآن نہیں پڑھتا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں جس چیز کی اقتداء کی ہے اس کو میں ترک نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ نے سچ کہا اور آپ کے ساتھ یہی گمان تھا یا آپ کے ساتھ میرا یہی گمان تھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ. قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ صَدَقْتَ، ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 770