Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 74

(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں محمد بن غریر الزہری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از صالح از ابن شہاب انہوں نے حدیث بیان کی کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے ان کو خبر دی از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما

کہ ان کی حر بن قیس بن حصن الفزاری سے صاحبِ موسیٰ کے متعلق بحث ہوئی، حضرت ابن عباس نے کہا: صاحبِ موسیٰ حضرت خضر تھے، ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ گزرے، حضرت ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرے اور میرے اس ساتھی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بحث ہوئی ہے، جن سے ملاقات کے راستہ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا تھا، کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کچھ فرمایا تھا؟ حضرت ابی نے کہا: ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ بنو اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے، ایک شخص نے آ کر ان سے سوال کیا: کیا آپ کو علم ہے کہ آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ حضرت موسیٰ نے کہا: نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی: کیوں نہیں! ہمارا بندہ خضر (تم سے بڑا عالم) ہے، پس حضرت موسیٰ نے ان کے راستہ کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے نشانی بنا دیا اور ان سے کہا گیا: جس جگہ آپ اس مچھلی کوگم پائیں وہیں سے لوٹ جائیں تو عنقریب آپ کی ان سے ملاقات ہوگی، وہ سمندر میں مچھلی کے نشان کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے تو حضرت موسیٰ سے ان کے شاگرد (حضرت یوشع بن نون) نے کہا: "کیا آپ نے ابھی دیکھا جب ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی (کا ذکر کرنا) بھول گیا تھا اور مجھے دراصل شیطان نے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا، حضرت موسیٰ نے کہا: ہم اسی کی تو تلاش میں تھے، پھر وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے لوٹے" (الکہف: ۶۳ - ۶۴) پھر دونوں نے حضرت خضر کو پالیا، پھر ان کے مکالمہ کا وہ قصہ ہے جس کو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ خَضِرٌ. فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ ﷺ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟ قَالَ مُوسَى: لَا. فَأَوْحَى اللهُ إِلَى مُوسَى: بَلَى، عَبْدُنَا خَضِرٌ. فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ اللهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، وَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ لِمُوسَى فَتَاهُ: ﴿ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ٘-وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗۚ﴾ ﴿ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ﳓ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللهُ ﷿ فِي كِتَابِهِ.

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 74