(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از اسماعیل بن ابی خالد از قیس بن ابی حازم از حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، انہوں نے بیان کیا کہ
ایک شخص نے بیان کیا: یارسول اللہ! میں فجر کی جماعت چھوڑ دیتا ہوں کیونکہ فلاں شخص بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے، پس رسول اللہ ﷺ بہت سخت غضب ناک ہوئے، میں نے آپ کو اس دن سے زیادہ کسی جگہ اتنے غضب میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے بعض شخص لوگوں کو متنفر کرنے والے ہیں، پس جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، وہ اختصار کرے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الفَجْرِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلاَنٌ فِيهَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْضِعٍ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالكَبِيرَ وَذَا الحَاجَةِ»
Reference: Sahih Al Bukhari 704