(امام بخاری نے کہا): اور ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں غندر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از عمرو، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، سو انہوں نے عشاء کی نماز پڑھائی، پس اس میں سورۃ بقرہ پڑھی، تو ایک شخص نماز سے نکل گیا، پس گویا کہ حضرت معاذ نے اس کو برا کہا، پھر نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے تین بار فرمایا: تم بہت فتنہ ڈالتے ہو، تم بہت فتنہ ڈالنے والے ہو، تم بہت فتنہ ڈالنے والے ہو، یا فرمایا: تم فتنہ ڈالنے والے ہو، تم فتنہ ڈالنے والے ہو، تم فتنہ ڈالنے والے ہو، اور ان کو حکم دیا کہ اوساط مفصل کی دو سورتیں پڑھو، عمرو نے کہا: مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ [ص:142]، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ، فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى العِشَاءَ، فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَكَأَنَّ مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَتَّانٌ، فَتَّانٌ، فَتَّانٌ» ثَلاَثَ مِرَارٍ - أَوْ قَالَ: «فَاتِنًا، فَاتِنًا، فَاتِنًا» - وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ المُفَصَّلِ، قَالَ عَمْرٌو: لاَ أَحْفَظُهُمَا
Reference: Sahih Al Bukhari 701