(امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا): اور ہم سے محمد بن یوسف نے کہا: ہمیں الاوزاعی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم کو الزہری نے حدیث بیان کی از حمید بن عبدالرحمٰن از عبیداللہ بن عدی بن خیار کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت وہ اپنے گھر میں مقید تھے، انہوں نے کہا: بے شک آپ تمام مسلمانوں کے سربراہ ہیں اور آپ پر وہ افتاد ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور ہمیں فتنہ برپا کرنے والا امام نماز پڑھا رہا ہے اور ہم حرج میں مبتلا ہیں، حضرت عثمان نے فرمایا: نماز لوگوں کا بہترین نیک عمل ہے، سو جب لوگ نیک کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ نیک کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو ان کی برائی سے اجتناب کرو۔
اور زبیدی نے کہا: زہری نے بیان کیا کہ ہم بغیر شدید ضرورت کے مخنث کی اقتداء میں نماز جائز نہیں سمجھتے۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، - وَهُوَ مَحْصُورٌ - فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ؟ فَقَالَ: «الصَّلاَةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ، فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ» وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: الزُّهْرِيُّ: «لاَ نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ المُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ لاَ بُدَّ مِنْهَا»
Reference: Sahih Al Bukhari 695