(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں احمد بن یونس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں زائدہ نے حدیث بیان کی از موسیٰ بن ابی عائشہ از عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، انہوں نے کہا:
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، پس میں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے متعلق حدیث نہیں بیان کریں گی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ ﷺ کی طبیعت بوجھل ہوگئی، آپ نے پوچھا: آیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میرے لیے ایک لگن (ٹب) میں پانی ڈالو، حضرت عائشہ نے بیان کیا: ہم نے ایسا کر لیا، آپ نے اس میں غسل کیا، پھر آپ مشقت سے اٹھنے لگے، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ کو ہوش آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، یارسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو، آپ ٹب میں بیٹھ گئے، پھر آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ ہوش میں آئے تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں! یارسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، پس آپ نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو، آپ ٹب میں بیٹھ گئے، پھر آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ ہوش میں آئے تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں! یارسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، اور اس وقت لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے نبی ﷺ کا انتظار کر رہے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، پس حضرت ابوبکر کے پاس قاصد گیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت ابوبکر رقیق القلب تھے، انہوں نے کہا: اے عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ، حضرت عمر نے ان سے کہا: آپ امامت کے زیادہ حق دار ہیں، پھر ان ایام میں حضرت ابوبکر نے نماز پڑھائی، پھر نبی ﷺ نے اپنی طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپ ظہر کی نماز کے لیے دو آدمیوں کے درمیان نکلے، ان میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب حضرت ابوبکر نے آپ کو دیکھا تھا، وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہوں، آپ نے فرمایا: مجھے ابوبکر کے پہلو کی طرف بٹھا دو، انہوں نے آپ کو حضرت ابوبکر کے پہلو کی طرف بٹھا دیا، پھر حضرت ابوبکر نماز پڑھ رہے تھے اور وہ نبی ﷺ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے، اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کے مرض کے متعلق بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: سناؤ، پھر میں نے ان کو حضرت عائشہ کی بیان کی ہوئی حدیث سنائی، انہوں نے اس میں سے کسی چیز کا انکار نہیں کیا، سوا اس کے کہ انہوں نے پوچھا: کیا حضرت عائشہ نے اس دوسرے شخص کا نام لیا تھا، جو حضرت عباس کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا: نہیں! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ حضرت علی رضی اللہ تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". فَقُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ـ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ـ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا ـ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ. قَالَ " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ". فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهْوَ يَأْتَمُّ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيٌّ.
Reference: Sahih Al Bukhari 687