(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی حازم بن دینار از سہل بن سعد الساعدی کہ
رسول اللہ ﷺ، بنی عمرو بن عوف کی طرف ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے گئے، پس نماز کا وقت آ گیا، پھر مؤذن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پس کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں نماز کی اقامت پڑھوں؟ حضرت ابوبکر نے کہا: ہاں! پھر حضرت ابوبکر نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، اور لوگ اس وقت نماز پڑھنے میں مشغول تھے، نبی ﷺ صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آئے، حتیٰ کہ (پہلی) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، پس لوگوں نے تالیاں بجائیں اور حضرت ابوبکر نماز میں ادھر ادھر التفات نہیں کرتے تھے، جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو انہوں نے توجہ کی، پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، حضرت ابوبکر نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کا حکم دیا، پھر حضرت ابوبکر پیچھے ہو گئے، حتیٰ کہ صف کے برابر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم کو اپنی جگہ برقرار رہنے سے کس چیز نے منع کیا جب میں نے تمہیں (نماز پڑھاتے رہنے کا) حکم دیا تھا؟ حضرت ابوبکر نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نماز پڑھائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے) فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے تم کو بہت زیادہ تالیاں بجاتے ہوئے دیکھا؟ جس شخص کی نماز میں کوئی امر پیش آجائے، وہ سبحان اللہ کہے، جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف التفات کیا جائے گا، تالیاں بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ ـ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ـ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ".
Reference: Sahih Al Bukhari 684