(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری' انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی' آپ کی خدمت کی اور آپ کی مجلس میں رہے' (انہوں نے بیان کیا:)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس درد میں وفات ہو گئی تھی' اس درد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے' حتیٰ کہ جب پیر کا دن آیا اور مسلمان نماز میں صفیں باندھے ہوئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ کا پردہ کھولا' آپ کھڑے ہوئے ہماری طرف دیکھ رہے تھے اور آپ کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح تھا' پھر آپ ہنستے ہوئے مسکرائے' پس ہم نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کی خوشی کی زیادتی کی وجہ سے ہم فتنہ میں پڑ جائیں گے' سو حضرت ابوبکر نے اپنی ایڑیوں کو پیچھے کیا تاکہ وہ صف سے مل جائیں اور انہوں نے گمان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے تشریف لا رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم اپنی نماز پوری کرو اور پردہ گرا دیا اور آپ اسی دن فوت ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ـ وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، وَهْوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 680