(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بشر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن عون نے حدیث بیان کی از ابن سیرین از عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ از والد خود کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک انسان نے اس کی مہار یا لگام پکڑی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، ہم نے گمان کیا کہ آپ عنقریب اس دن کے نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ نے فرمایا: کیا آج قربانی کرنے کا دن نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ عنقریب آپ اس مہینہ کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے، پھر آپ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس طرح حرام ہیں، جس طرح یہ آج کے دن، اس مہینہ میں اور اس شہر میں حرام ہیں، حاضر کو چاہیے کہ غائب کو یہ حدیث پہنچا دے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ حاضر اس شخص کو یہ حدیث پہنچائے جو اس حدیث کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ
ذَكَرَ النَّبِيَّ ﷺ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ بِزِمَامِهِ قَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟! فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ. قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. فَقَالَ: أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 67