(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از محمود بن الربیع الانصاری کہ
حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور وہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! (کبھی) اندھیرا ہوتا ہے اور (ندی میں) سیلاب ہوتا ہے اور میں نابینا ہوں، پس یا رسول اللہ! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھا دیں تو میں اس کو اپنے نماز پڑھانے کی جگہ بنا لوں گا، سو ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ انہوں نے اپنے گھر کی ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا تو اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهْوَ أَعْمَى، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ". فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Reference: Sahih Al Bukhari 667