(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی از معمر از الزہری، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہو گئی اور درد زیادہ ہو گیا تو آپ نے اپنی ازواج سے اس کی اجازت لی کہ آپ بیماری کے ایام میرے گھر میں گزاریں، سو انہوں نے آپ کو اس کی اجازت دے دی، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان نکلے اور آپ کے دونوں پیر (گھسٹنے سے) زمین پر نشان بنا رہے تھے اور آپ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص کے درمیان تھے۔
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا تھا، حضرت ابن عباس نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا شخص کون تھا، جس کا حضرت عائشہ نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں! انہوں نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.
Reference: Sahih Al Bukhari 665