(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی از ابراہیم، اسود نے کہا:
ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، پس ہم نے نماز میں دوام اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا، حضرت عائشہ نے بیان کیا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہو گئی تھی تو نماز کا وقت آیا اور اس کی اذان دی گئی، پس آپ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، آپ سے کہا گیا کہ ابوبکر بہت رقیق القلب ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے اور آپ نے پھر دوبارہ فرمایا: گھر والوں نے پھر یہی کہا، پھر آپ نے تیسری بار فرمایا: تم حضرت یوسف کے زمانے کی عورتوں (کی مثل) ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، پس ابوبکر نکلے اور نماز پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ دو آدمیوں کے درمیان گھسٹتے ہوئے نکلے گویا کہ میں آپ کے پیروں کو دیکھ رہی تھی، درد کی وجہ سے آپ گھسٹ کر چل رہے تھے اور زمین پر نشان پڑ رہے تھے، حضرت ابوبکر نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ رہو، پھر آپ کو لایا گیا حتیٰ کہ آپ حضرت ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ گئے، الاعمش سے کہا گیا: اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کے ساتھ پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں!
اس حدیث کے بعض حصہ کو ابوداؤد نے از شعبہ از اعمش روایت کیا ہے اور ابومعاویہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ حضرت ابوبکر کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الأَسْوَدُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَذَكَرْنَا الْمُوَاظَبَةَ عَلَى الصَّلاَةِ وَالتَّعْظِيمَ لَهَا، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ " إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ. قِيلَ لِلأَعْمَشِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ بِرَأْسِهِ نَعَمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضَهُ. وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا.
Reference: Sahih Al Bukhari 664