(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عمر بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سالم سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ام الدرداء سے سنا، وہ بیان کرتی ہیں کہ
میرے پاس حضرت ابو الدرداء رضی اللہ آئے، وہ اس وقت غصہ میں تھے، میں نے پوچھا: آپ کو کس نے غضب ناک کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے کسی چیز کو نہیں پہچان رہا، مگر یہ کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ؟ فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا»
Reference: Sahih Al Bukhari 650