(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از سعید جو مقبری ہے از شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں
کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر بیٹھا ہوا آیا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا، پھر اس کو باندھ دیا، پھر صحابہ سے کہا: تم میں سے کون شخص (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: یہ سفید رو شخص جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر آپ سے اس شخص نے کہا: عبدالمطلب کے بیٹے ہو؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جواب دے چکا ہوں، پس اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے سوال کرنے والا ہوں اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا، آپ اپنے دل میں مجھ پر غصہ نہ کریں، آپ نے فرمایا: جو دل میں آئے سوال کرو، اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دے کر اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں: کیا واقعی اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ! ہاں! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں: کیا واقعی اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ! ہاں! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا واقعی اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال کے اس مہینہ میں روزے رکھا کریں؟ آپ نے فرمایا: اے اللہ! ہاں! اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا واقعی آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے دولت مند لوگوں سے صدقہ لے کر اس کو ہمارے فقراء میں تقسیم کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہاں! اس شخص نے کہا: آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں‘ میں اس پر ایمان لے آیا اور میں اپنے پیچھے اپنی قوم کا رسول (نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں‘ جو بنو سعد بن ابی بکر کا بھائی ہے۔
(امام بخاری فرماتے ہیں): اس حدیث کو موسیٰ اور علی بن عبدالحمید نے روایت کیا ہے، از سلیمان از ثابت از حضرت انس رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ
بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ. فَقُلْنَا: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: قَدْ أَجَبْتُكَ. فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ ﷺ: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ. فَقَالَ: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.
Reference: Sahih Al Bukhari 63