(امام بخاری روایت کرتے ہیں): ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابن شہاب از سالم بن عبداللہ از والد خود کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
بے شک بلال رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاتے پیتے رہو حتیٰ کہ ابن ام مکتوم اذان دیں، پھر فرمایا: وہ نابینا شخص ہیں، وہ اس وقت اذان دیتے ہیں، جب ان سے کہا جائے: صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ بِلاَلًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ»، ثُمَّ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، لاَ يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ: أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ
Reference: Sahih Al Bukhari 617