Sahih Al Bukhari 601

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری‘ انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر اور ابوبکر بن ابی حثمہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخر میں عشاء کی نماز پڑھی‘ جب سلام پھیرا تو آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا: مجھے بتاؤ یہ تمہاری کون سی رات ہے؟ کیونکہ اس کے سو سال بعد روئے زمین پر ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا‘ جو آج (زندہ) ہیں۔

حضرت ابن عمر نے کہا: لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کو سمجھنے میں غلطی کی حتیٰ کہ وہ سو سال کی تاویل میں مختلف باتیں کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ اب زمین پر زندہ ہیں‘ سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا‘ آپ کی مراد یہ تھی کہ سو سال بعد یہ قرن (صدی) گزر جائے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ ‏"‏‏.‏ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ ‏"‏ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ‏.‏

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 601