امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ایوب بن سلیمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر نے حدیث بیان کی از سلیمان‘ انہوں نے کہا کہ صالح بن کیسان نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا‘ انہوں نے بیان کیا کہ
(ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی‘ حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: نماز (کے لیے تشریف لائیے)‘ عورتیں اور بچے سو گئے‘ پھر آپ باہر نکلے اور فرمایا: تمہارے سوا تمام روئے زمین پر اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا تھا اور ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی اور وہ شفق (کی سفیدی) غائب ہونے کے بعد تہائی رات کے اوّل حصہ تک نماز کو مؤخر کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ الصَّلاَةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ فَقَالَ " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ". قَالَ وَلاَ يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 569