امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب از عروہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی‘ انہوں نے بیان کیا کہ
ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز میں بہت تاخیر کر دی اور یہ اس وقت کی بات ہے‘ جب اسلام کے احکام پھیلے نہیں تھے‘ آپ گھر سے باہر نہیں آئے‘ حتیٰ کہ حضرت عمر نے کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے‘ پھر آپ گھر سے نکلے اور مسجد والوں سے فرمایا: روئے زمین پر تمہارے سوا اس نماز کا کوئی اور انتظار نہیں کر رہا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَالَ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ".
Reference: Sahih Al Bukhari 566