امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں مہاجر ابو الحسن نے حدیث بیان کی‘ جو بنو تیم اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں‘ انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن وہب سے سنا از حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ‘ انہوں نے کہا:
ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے‘ پس مؤذن نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھنڈے وقت میں‘ اس نے پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈے وقت میں حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کا سایا دیکھا تب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے‘ سو جب گرمی شدید ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
حضرت ابن عباس نے کہا: ”تتفیا“ کا معنی ہے: مائل ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ، مَوْلًى لِبَنِي تَيْمِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدْ ". ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ " أَبْرِدْ ". حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَتَفَيَّأُ تَتَمَيَّلُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 539