ابن شہاب نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ عنہما وحی کے رکنے کا حال بیان کر رہے تھے‘ انہوں نے کہا:
"جس وقت میں جا رہا تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی‘ میں نے نظر اٹھائی تو میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ تھا‘ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا‘ وہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا‘ میں اس سے مرعوب ہو کر لوٹ آیا‘ میں نے کہا: مجھے چادر اڑھاؤ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: ”اے چادر اوڑھنے والے O اٹھیے پس لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے O اور اپنے رب کی کبریائی بیان کیجئے O اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے O اور بتوں کے ترک پر قائم رہیے O“ (المدثر:۱-۵) پھر بہ کثرت وحی کا نزول ہوا اور لگاتار وحی آنے لگی۔"
عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے (لیث سے روایت میں) یحییٰ بن بکیر کی متابعت کی اور ھلال بن رداد نے (ابن شہاب) زہری سے روایت میں عقیل کی متابعت کی اور یونس اور معمر نے ”آپ کا دل کپکپا رہا تھا“ کی بجائے کہا ہے: ”آپ کے کندھوں کے درمیان گوشت کپکپا رہا تھا“۔
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ
بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: ﴿یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ *قُمْ فَاَنْذِرْ﴾ إِلَى قوْلِهِ ﴿وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [المدثر: ١ - ٥]، فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 4