اور نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو حدیث بیان کی
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان گھنے درختوں کے پاس اترے جو راستے کی بائیں جانب ہرشیٰ کے قریب والے نالے میں ہیں‘ وہ نالہ ہرشیٰ کے کنارے سے مل گیا ہے‘ اس کے اور راستے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنے فاصلہ تک تیر پھینکنے سے جاتا ہے‘ حضرت عبداللہ بن عمر اس گھنے درخت کے پاس نماز پڑھتے تھے جو ان گھنے درختوں میں راستے کے سب سے زیادہ قریب ہے‘ اور وہ درخت سب سے لمبا ہے۔
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عِنْدَ سَرَحَاتٍ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ، فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَى، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لاَصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَى، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي إِلَى سَرْحَةٍ، هِيَ أَقْرَبُ السَّرَحَاتِ إِلَى الطَّرِيقِ وَهْىَ أَطْوَلُهُنَّ.
Reference: Sahih Al Bukhari 489