امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جُعَید بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن خصیفہ نے حدیث بیان کی از حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ، انہوں نے کہا:
میں مسجد میں کھڑا ہوا تھا تو مجھے ایک شخص نے کنکر مارا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: جاؤ! ان دو آدمیوں کو بلا کر لاؤ، میں ان دونوں کو لے آیا، حضرت عمر نے پوچھا: تم کون ہو یا کہاں سے آئے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم طائف کے رہنے والے ہیں، حضرت عمر نے کہا: اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تم کو دردناک سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز بلند کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ. فَجِئْتُهُ بِهِمَا. قَالَ مَنْ أَنْتُمَا ـ أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالاَ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Reference: Sahih Al Bukhari 470