امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن مثنیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی از ہشام، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی، آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، اس کی نماز کا بہت چرچا ہے، آپ نے فرمایا: چپ کرو، تم ان عبادات کو لازم رکھو جن کی تم طاقت رکھتے ہو، پس اللہ کی قسم! اللہ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ، اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے، جس پر عبادت کرنے والا دوام کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، قَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: فُلَانَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا. قَالَ: مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 43