امام بخاری روایت کرتے ہیں: ابراہیم نے کہا یعنی ابن طہمان نے از عبدالعزیز بن صہیب از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کا مال آیا اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو مسجد میں پھیلا دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے چلے گئے اور آپ نے اس مال کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، جب آپ نے نماز پڑھ لی تو آپ اس مال کے پاس آکر بیٹھ گئے، آپ جس شخص کو بھی دیکھتے، آپ اس کو اس مال سے عطا کرتے، اچانک آپ کے پاس حضرت عباس رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے دیجیے کیونکہ میں نے اپنا فدیہ بھی دیا تھا اور عقیل کا فدیہ بھی دیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ لے لیں، انہوں نے اپنا کپڑا بچھایا اور اس میں مال ڈالا حتیٰ کہ اس کی چوٹی (بڑا ڈھیر) بن گئی، پھر وہ اس کو اٹھا نہ سکے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کسی سے کہیے کہ وہ اس کو اٹھا کر میرے اوپر رکھ دے، آپ نے فرمایا: نہیں! انہوں نے کہا: پھر آپ اس کو اٹھا کر میرے اوپر رکھ دیں، آپ نے فرمایا: نہیں! انہوں نے اس سے مال کم کیا پھر بھی اس کی چوٹی بن گئی، پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کسی سے کہیے یہ مال اٹھا کر میرے اوپر رکھ دے، آپ نے فرمایا: نہیں! انہوں نے کہا: اچھا! آپ خود اٹھا کر میرے اوپر رکھ دیں، آپ نے فرمایا: نہیں! انہوں نے اس سے کچھ مال کم کیا، پھر اٹھا کر اس کو اپنے کندھے کے اوپر رکھ لیا، پھر چلے گئے اور ان کی حرص پر تعجب کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مسلسل ان کا پیچھا کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئے اور جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نہیں اٹھے۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ " انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ ". وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ، وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلاَّ أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلاً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذْ ". فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعُهُ إِلَىَّ. قَالَ " لاَ ". قَالَ فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَىَّ. قَالَ " لاَ ". فَنَثَرَ مِنْهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ عَلَىَّ. قَالَ " لاَ ". قَالَ فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَىَّ. قَالَ " لاَ ". فَنَثَرَ مِنْهُ، ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا، عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ.
Reference: Sahih Al Bukhari 421