Sahih Al Bukhari 401

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عثمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از منصور از ابراہیم از علقمہ، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا: مجھے پتا نہیں اس نماز میں آپ نے کچھ زیادتی کی یا کچھ کمی کی، پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ صحابہ نے کہا: آپ نے اس طرح اور اس طرح نماز پڑھی ہے، آپ نے اپنے پیر موڑے اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری طرف منہ کر کے فرمایا: اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا، لیکن میں صرف تمہاری مثل بشر ہوں، میں اس طرح بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو، پس جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اسے غور کر کے صحیح بات معلوم کرنی چاہیے، پھر اپنی نماز پوری کرنی چاہیے، پھر سلام پھیر کر دو سجدے کرنے چاہئیں۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لاَ أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ ـ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏‏.‏

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 401