Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 371

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبد العزیز بن صہیب نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں جہاد کیا‘ ہم نے خیبر کے پاس منہ اندھیرے صبح کی نماز پڑھی‘ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے‘ اور حضرت ابوطلحہ سوار ہوئے‘ اور میں حضرت ابوطلحه رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا‘ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں گھوڑے کو دوڑایا‘ اور بے شک میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کو چھو رہا تھا‘ پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا حتیٰ کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا‘ پس جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: اللہ اکبر! خیبر ویران ہو گیا‘ بے شک ہم جن لوگوں کی بستی میں پہنچتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح کیسی بُری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا ہے‘ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ فرمائے‘ خیبر کے لوگ اپنے کام کے لیے نکلے تو انہوں نے کہا۔ محمد (راوی) عبدالعزیز نے بیان کیا اور ہمارے بعض اصحاب نے کہا اور خمیس یعنی لشکر‘ پھر ہم نے جنگ سے خیبر کو فتح کر لیا‘ پھر قیدیوں کو جمع کیا گیا‘ پس حضرت دحیہ آئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھے قیدیوں میں سے ایک باندی دے دیں‘ آپ نے فرمایا: جاؤ! ایک باندی لے لو‘ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا‘ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: یا نبی اللہ! آپ نے حضرت دحیہ کو صفیہ بنت حیی عطا کر دی‘ جو بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار ہے‘ وہ صرف آپ کے لائق ہے‘ آپ نے فرمایا: دحیہ کو اس کے ساتھ لاؤ‘ حضرت دحیہ اس کے ساتھ آئے‘ پس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا: تم اس کے سوا قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا‘ حضرت انس سے ثابت نے کہا: اے ابو حمزہ! حضرت صفیہ کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: وہ خود تھیں‘ آپ نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا (ان کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیا)‘ حتیٰ کہ جب آپ راستے میں تھے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو تیار کیا (دلہن بنایا)‘ پھر رات کو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور دولہا کے صبح کی‘ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے وہ لے کر آئے اور چمڑے کا دسترخوان بچھادیا‘ پھر کوئی شخص کھجوریں لے کر آیا اور کوئی شخص گھی لے کر آیا اور میرا گمان ہے ستو کا ذکر کیا‘ پھر انہوں نے حیس (ایک قسم کا حلوہ) بنا لیا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ ـ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا ـ وَالْخَمِيسُ‏.‏ يَعْنِي الْجَيْشَ، قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، فَجُمِعَ السَّبْىُ، فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ‏"‏‏.‏ فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ بِهَا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَتَزَوَّجَهَا‏.‏ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ ‏"‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ ‏"‏‏.‏ وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ ـ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 371